EN हिंदी
صداؤں کا نہ خلا دیکھ کر ڈرا مجھ کو | شیح شیری
sadaon ka na KHala dekh kar Dara mujhko

غزل

صداؤں کا نہ خلا دیکھ کر ڈرا مجھ کو

منموہن تلخ

;

صداؤں کا نہ خلا دیکھ کر ڈرا مجھ کو
ہے کوئی اور بھی سننے تو دے ذرا مجھ کو

قریب اپنے جو آیا تو لڑکھڑا سا گیا
تو میری فکر نہ کر کچھ نہیں ہوا مجھ کو

میں برف بیچنے نکلا بھی تو ہمالے میں
اور اس کے بعد زمانے سے ہے گلہ مجھ کو

یہ کیسے درد ہیں جو رہ گئے ہیں بٹنے سے
یہ کیسی گونج ہے کچھ بھی نہیں ملا مجھ کو

میں دیکھ کر تجھے اک سمت ہو سا جاتا ہوں
یہ ملتے ملتے پرے کیسے کر دیا مجھ کو

نہ تو بلائے مجھے اور نہ میں بلاؤں تجھے
یہ کیا ہوا ہے تجھے اور کیا ہوا مجھ کو

خلا میں راستے گرتے ہوں آبشار کی مثل
وہ دھوپ ہو نظر آئے نہ راستہ مجھ کو

یہ موج موج سی آواز کشتیوں کی سی چپ
قدم بنا ہوں اندھیروں کا اب بڑھا مجھ کو

میں چپ کی کھائی کا ہوتا اک اور پتھر آج
مری صدا ہی نے کس کر جکڑ لیا مجھ کو

میں خود کو ڈھال کے تیری صدا میں چاہتا ہوں
کہ تو بھی اب کبھی میری طرح بلا مجھ کو

میں کیا وہ خوف ہوں جو سب کے دل میں بیٹھا ہے
نہیں تو بت سے بنے دیکھتے ہو کیا مجھ کو

میں ایک شام ترے ساتھ رہ کے لٹ سا گیا
کہ زندگی میں یہ لہجہ نہیں ملا مجھ کو

پھر آج گھر مجھے لے آئی جوں کا توں اک بات
کہ جیسے کوئی کھڑا دیکھتا رہا مجھ کو

ادھر کنارے پہ بھی تلخؔ میں ہی تھا کل شام
بس اپنے خوف نے ملنے نہیں دیا مجھ کو