EN हिंदी
صدا وہ دیتا بھی ہوگا تو کیا خبر مجھ کو | شیح شیری
sada wo deta bhi hoga to kya KHabar mujhko

غزل

صدا وہ دیتا بھی ہوگا تو کیا خبر مجھ کو

غلام مرتضی راہی

;

صدا وہ دیتا بھی ہوگا تو کیا خبر مجھ کو
جو سننے دے یہ مشینوں کا شور و شر مجھ کو

عجیب دشت ہوں میں بھی کہ ایک اک ذرہ
اڑائے پھرتا ہے مدت سے در بدر مجھ کو

ہر اک سے پوچھتا پھرتا ہے میرا نام و نشاں
گزر گیا تھا کبھی سہل جان کر مجھ کو

ہوا وہ دور سے دیتا ہے اپنے دامن کو
قریب آتا نہیں جان کر شرر مجھ کو

میں اپنے قتل کا الزام کسی کو دوں راہیؔ
ملا ہے اپنا ہی دامن لہو میں تر مجھ کو