EN हिंदी
سچ کہنے کا آخر یہ انجام ہوا | شیح شیری
sach kahne ka aaKHir ye anjam hua

غزل

سچ کہنے کا آخر یہ انجام ہوا

امت شرما میت

;

سچ کہنے کا آخر یہ انجام ہوا
ساری بستی میں میں ہی بدنام ہوا

قتل کا مجرم رشوت دے کر چھوٹ گیا
قسمت دیکھو میرے سر الزام ہوا

میرے غم پر وہ اکثر ہنس دیتا ہے
یہ تو غم کا غیر مناسب دام ہوا

زخم یہاں تو ویسے کا ویسا ہی ہے
تم بتلاؤ تم کو کچھ آرام ہوا

تنہائی نے جب سے قید کیا مجھ کو
باہر آنے میں تب سے ناکام ہوا

روز مسائل گھیرے ہیں مجھ کو تو اب
سوچ رہا ہوں گردش ایام ہوا

اخباروں میں خود کو پڑھتے سوچوں ہوں
میتؔ یہاں پر میرا بھی کچھ نام ہوا