EN हिंदी
سبھی راستے ترے نام کے سبھی فاصلے ترے نام کے | شیح شیری
sabhi raste tere nam ke sabhi fasle tere nam ke

غزل

سبھی راستے ترے نام کے سبھی فاصلے ترے نام کے

شہنواز زیدی

;

سبھی راستے ترے نام کے سبھی فاصلے ترے نام کے
کبھی مل مجھے مری سوچ کے سبھی دائرے ترے نام کے

مرے کام کے تو نہیں ہیں یہ یہ جو میرے لات و منات ہیں
یہ مجھے عزیز ہیں اس لیے کہ ہیں سلسلے ترے نام کے

میں شراب پیتا تو کس طرح مجھے تیرے حکم کا پاس تھا
مگر آج ساقی نے جب دیئے مجھے واسطے ترے نام کے

کوئی منبروں پہ ہے معتبر کوئی سر کشیدہ ہے دار پر
وہ سہولتیں ترے ذکر کی یہ مجاہدے ترے نام کے

یہاں جو بھی تھا وہ تجھی سے تھا یہاں جو بھی ہے وہ تجھی سے ہے
سبھی عکس ہیں تری ذات کے سبھی رنگ تھے ترے نام کے

ابھی میں نے ظلمت شب کی سمت نگاہ ڈالی تھی غور سے
کہ کسی نے دل کی منڈیر پر دیئے رکھ دیے ترے نام کے