EN हिंदी
سب کے ہوتے ہوئے لگتا ہے کہ گھر خالی ہے | شیح شیری
sab ke hote hue lagta hai ki ghar Khaali hai

غزل

سب کے ہوتے ہوئے لگتا ہے کہ گھر خالی ہے

شکیل جمالی

;

سب کے ہوتے ہوئے لگتا ہے کہ گھر خالی ہے
یہ تکلف ہے کہ جذبات کی پامالی ہے

آسمانوں سے اترنے کا ارادا ہو تو سن
شاخ پر ایک پرندے کی جگہ خالی ہے

جس کی آنکھوں میں شرارت تھی وہ محبوبہ تھی
یہ جو مجبور سی عورت ہے یہ گھر والی ہے

رات بے لطف ہے پرہیز کے سالن کی طرح
دن بھکاری کے کٹورے کی طرح خالی ہے

مدتوں خود کو بھروسے میں لیا ہے میں نے
تب کہیں تیری محبت نے سپر ڈالی ہے