EN हिंदी
سب ہے زیر بحث جو ظاہر ہے یا پوشیدہ ہے | شیح شیری
sab hai zer-e-bahs jo zahir hai ya poshida hai

غزل

سب ہے زیر بحث جو ظاہر ہے یا پوشیدہ ہے

محمد اعظم

;

سب ہے زیر بحث جو ظاہر ہے یا پوشیدہ ہے
اور نظر سے اپنی پردہ آنکھ کا بوسیدہ ہے

جب ملے طومار آگاہی سے فرصت دیکھنا
کن تہوں میں رمز عقل نارسا پوشیدہ ہے

کون سا آنسو ہو مقبول بنا گوش قبول
کس صدف کو کیا خبر ہے اس میں کیا پوشیدہ ہے

بے اماں اس درجہ وحشت خیز ہے سعئ جنوں
یک جہاں صحرا ہمارے زیر پا پوشیدہ ہے

ہم مسافر ایسی منزل کے ہوئے جس کے لئے
راستہ ظاہر ہے لیکن فاصلہ پوشیدہ ہے

صرصر ہستی میں زندہ ہے ابھی تک ایک لو
شعلۂ دل زیر دامان ہوا پوشیدہ ہے

ایک آندھی خاک تک میری اڑا کر لے گئی
میں کہاں ہوں صاحبو یہ ماجرا پوشیدہ ہے