EN हिंदी
سارے موسم ہیں مہربان سے کچھ | شیح شیری
sare mausam hain mehrban se kuchh

غزل

سارے موسم ہیں مہربان سے کچھ

اسحاق اطہر صدیقی

;

سارے موسم ہیں مہربان سے کچھ
روز اترتا ہے آسمان سے کچھ

ہر عبارت سوال جیسی ہے
لفظ غائب ہیں درمیان سے کچھ

کس کی لو نے جلا دیا کس کو
راکھ میں ہیں ابھی نشان سے کچھ

کس سے تفسیر ماہ و سال کریں
دن گزرتے ہیں بے امان سے کچھ

کیا خبر یہ کہاں تلک پھیلے
اٹھ رہا ہے دھواں گمان سے کچھ

کارواں کس کا منزلیں کس کی
کیا جھلکتا ہے داستان سے کچھ

ایک تصویر روشنی لے کر
سائے نکلے تو ہیں مکان سے کچھ

اس قدر اعتبار کر لیجے
ربط رکھتا ہوں خاندان سے کچھ

تم بھی اس وقت سے ڈرو لوگو
جب نکل جائے اس زبان سے کچھ