سارا بدن ہے خون سے کیوں تر اسے دکھا
شہ رگ کٹی ہے جس سے وہ نشتر اسے دکھا
آئے گی کیسے نیند دکھا وہ ہنر اسے
پھر اس کے بعد خواب کو چھو کر اسے دکھا
آنکھوں سے اپنے اشک کے تاروں کو توڑ کر
سوکھی ندی کے درد کا منظر اسے دکھا
دکھ سکھ جو دھوپ چھاؤں کا اک کھیل ہے تو پھر
سورج کے ساتھ بادلوں کے پر اسے دکھا
آئے جو کوئی شیشے کا پیکر لیے ہوئے
تو اپنے دشت شوق میں پتھر اسے دکھا
پوچھے جو زندگی کی حقیقت کوئی جمالؔ
تو چٹکیوں میں ریت اڑا کر اسے دکھا

غزل
سارا بدن ہے خون سے کیوں تر اسے دکھا
یوسف جمال