EN हिंदी
ساقی ہے نہ مے ہے نہ دف وچنگ ہے ہولی | شیح شیری
saqi hai na mai hai na daf-o-chang hai holi

غزل

ساقی ہے نہ مے ہے نہ دف وچنگ ہے ہولی

حاتم علی مہر

;

ساقی ہے نہ مے ہے نہ دف وچنگ ہے ہولی
کیا حال ہے امسال یہ کیا رنگ ہے ہولی

آئی ہے جو فرقت میں مرا خون کرے گی
یہ بھی ترے آنے کا کوئی ڈھنگ ہے ہولی

ہم خاک اڑاتے ہیں دھولینڈی ہے یہاں پر
ہم تک نہیں آتی کبھی کیا لنگ ہے ہولی

سو بار جلاتا ہوں میں اک آہ سے دم میں
آ کر مرے ویرانے میں کیا تنگ ہے ہولی

نکلا مہ نخشب کہ گرا چاہ میں یوسف
یا حوض کے اندر مہ گل رنگ ہے ہولی

پچکاری اگر خامہ ہے تو رنگ سیاہی
رنگینیٔ مضموں سے مرے دنگ ہے ہولی

ہر بت عوض قمقمہ دل مانگ رہا ہے
اس سال کی واللہ کہ بے رنگ ہے ہولی

اے مہرؔ ترے گرد ہیں مہ رو کئے تصویر
فانوس خیالی ہے کہ ارژنگ ہے ہولی