سانسوں کے تعاقب میں حیران ملی دنیا
تصویر بنے جب ہم آئینہ ہوئی دنیا
ہم خون پسینہ جب اک کر کے ہوئے روشن
کیوں آگ بنی دنیا اور خوب جلی دنیا
اپنا نظریہ کیا محروم نظر ہیں جب
اس سمت چلے ہم بھی جس سمت چلی دنیا
سیلاب بلا سے یہ کیوں خوف دلاتی ہے
کیا ہم کو بچائے گی شعلوں میں گھری دنیا
معمول جدائی ہے گو پھول کی گلشن سے
لیکن جو ہوئی عنقا خوابوں میں بسی دنیا
سب خواب پرانے ہیں ہر چند فسانے ہیں
ہم روز بساتے ہیں آنکھوں میں نئی دنیا
ہم دونوں سفر میں تھے معلوم نہیں اب کچھ
کیا تو نے کہی دنیا کیا ہم نے سنی دنیا
فردائے قیامت کا وعدہ ترا پرساں ہے
اب کتنی بچیں سانسیں اب کتنی بچی دنیا
ہر بات پہ حیرانی ہر لمحے کی نگرانی
دنیا سے عطاؔ یعنی کب سمجھی گئی دنیا
غزل
سانسوں کے تعاقب میں حیران ملی دنیا
عطا عابدی