سانس کے ہمراہ شعلے کی لپک آنے کو ہے
ایسا لگتا ہے کوئی روشن مہک آنے کو ہے
پھر پس پسپائی میرا حوصلہ زندہ ہوا
آسماں سے پھر کوئی تازہ کمک آنے کو ہے
ایک خلقت ہی نہیں ہے بد گمانی کا شکار
اس کی جانب سے مرے بھی دل میں شک آنے کو ہے
ایک مدت سے چراغ سرد سا رکھا ہوں میں
اس توقع پر کہ آنچل کی بھڑک آنے کو ہے
اے سفر کی رائیگانی آیتوں کے ساتھ چل
پھر وہی جنگل وہی سونی سڑک آنے کو ہے
بید مجنوں ہو رہے ہیں تیر کیا تلوار کیا
میرے دشمن میں بھی اب شاید لچک آنے کو ہے
اب تو اس چھت پر کوئی ماہ شبانہ چاہئے
سایۂ قامت فصیل شام تک آنے کو ہے
راستے گم ہو رہے ہیں دھند کی پہنائی میں
سردیوں کی شام ہے پھر اس کا چک آنے کو ہے
غزل
سانس کے ہمراہ شعلے کی لپک آنے کو ہے
عباس تابش

