EN हिंदी
سانجھ سویرے پھرتے ہیں ہم جانے کس ویرانے میں | شیح شیری
sanjh-sawere phirte hain hum jaane kis virane mein

غزل

سانجھ سویرے پھرتے ہیں ہم جانے کس ویرانے میں

حسن رضوی

;

سانجھ سویرے پھرتے ہیں ہم جانے کس ویرانے میں
ساون جیسی دھوپ لکھی ہے قسمت کے ہر خانے میں

اس نے پیار کے سارے بندھن اک لمحے میں توڑ دئے
جس کی خاطر رسوا ہیں ہم اس بے درد زمانے میں

شب کی سیاہی اور بڑھے گی اور ستارے ٹوٹیں گے
کچھ تو وقت لگے گا آخر نیا سویرا آنے میں

کتنے پیپل سوکھ گئے ہیں کتنے دریا خشک ہوئے
کتنے موسم بیت گئے ہیں بادل کو بہلانے میں

سیدھے سادے پنچھی کی مانند وہ شاید لوٹ آئے
آس لگائے بیٹھے ہیں ہم اپنے حیرت خانے میں

پڑھنا لکھنا چھوٹ گیا ہے ساجن جب سے روٹھ گیا
کڑوی کڑوی سے لگتی ہے اب تو ہر شے کھانے میں