EN हिंदी
سامنے اس کے رو نہیں سکتا | شیح شیری
samne uske ro nahin sakta

غزل

سامنے اس کے رو نہیں سکتا

جوشش عظیم آبادی

;

سامنے اس کے رو نہیں سکتا
چپ رہوں یہ بھی ہو نہیں سکتا

سنگ و آہن گداز ہوتے ہیں
اس کا دل نرم ہو نہیں سکتا

آگ سے طفل اشک ڈرتا ہے
دل کے داغوں کو دھو نہیں سکتا

جس طرح سو گئے مرے طالع
اس طرح کوئی سو نہیں سکتا

مثل فرہاد عشق میں ؔجوشش
جاں کوئی مفت کھو نہیں سکتا