سامنے اس کے رو نہیں سکتا
چپ رہوں یہ بھی ہو نہیں سکتا
سنگ و آہن گداز ہوتے ہیں
اس کا دل نرم ہو نہیں سکتا
آگ سے طفل اشک ڈرتا ہے
دل کے داغوں کو دھو نہیں سکتا
جس طرح سو گئے مرے طالع
اس طرح کوئی سو نہیں سکتا
مثل فرہاد عشق میں ؔجوشش
جاں کوئی مفت کھو نہیں سکتا
غزل
سامنے اس کے رو نہیں سکتا
جوشش عظیم آبادی

