EN हिंदी
سامنے اک بے رحم حقیقت ننگی ہو کر ناچتی ہے | شیح شیری
samne ek be-rahm haqiqat nangi ho kar nachti hai

غزل

سامنے اک بے رحم حقیقت ننگی ہو کر ناچتی ہے

شبنم شکیل

;

سامنے اک بے رحم حقیقت ننگی ہو کر ناچتی ہے
اس کی آنکھوں سے اب میری موت کی خواہش جھانکتی ہے

جسم کا جادو اس دنیا میں سر چڑھ کر جب بولتا ہے
روح مری شرمندہ ہو کر اپنا چہرہ ڈھانپتی ہے

اس کی جھولی میں سب کھوٹے سکے ڈالے جائیں گے
جانتی ہے یہ اندھی بھکارن پھر بھی دن بھر مانگتی ہے

میرا خون پیا تو اس کو تازہ لہو کی چاٹ لگی
اب وہ ناگن اپنی زباں سے اپنا لہو بھی چاٹتی ہے

اب کی بار اے بزدل قسمت کھل کر میرے سامنے آ
کیوں اک دھچکا روز لگا کر باقی کل پر ٹالتی ہے

ماضی کی تربت سے نکل آتی ہے کسی کی یاد کی لاش
میری سوچ مری دشمن ہے روز مصیبت ڈالتی ہے

صحرا کا بادل دو بوندیں برسا کر اڑ جاتا ہے
پیاسی بنجر بانجھ زمیں کچھ اور زیادہ ہانپتی ہے

اب تک سوئی ہوئی تھی وہ آسائش کے گہوارے میں
انگڑائی سی لے کر شبنمؔ آج انا کیوں جاگتی ہے