EN हिंदी
سامان ہے اس درجہ انبار سے سر پھوڑو | شیح شیری
saman hai is darja ambar se sar phoDo

غزل

سامان ہے اس درجہ انبار سے سر پھوڑو

سوربھ شیکھر

;

سامان ہے اس درجہ انبار سے سر پھوڑو
دیدار کرو چھت کا دیوار سے سر پھوڑو

دریا کے مسافر کو ساحل کی تمنا کیوں
گرداب سے تم الجھو منجھدار سے سر پھوڑو

آغوش میں ٹی وی کی ہر شام کرو کالی
ہر صبح اسی باسی اخبار سے سر پھوڑو

دنیا کے تکبر سے تم بعد میں ٹکرانا
فی الحال میاں اپنے پندار سے سر پھوڑو

مت دیکھ کے گھبراؤ لوگوں سے پٹی سڑکیں
بہتر ہے اسی رشک کہسار سے سر پھوڑو

کومل ہیں رگیں اس کی نازک ہے بدن سوربھؔ
آرام سے دھیرے سے اب پیار سے سر پھوڑو