EN हिंदी
صاف ظاہر ہے نگاہوں سے کہ ہم مرتے ہیں | شیح شیری
saf zahir hai nigahon se ki hum marte hain

غزل

صاف ظاہر ہے نگاہوں سے کہ ہم مرتے ہیں

اختر انصاری

;

صاف ظاہر ہے نگاہوں سے کہ ہم مرتے ہیں
منہ سے کہتے ہوئے یہ بات مگر ڈرتے ہیں

ایک تصویر محبت ہے جوانی گویا
جس میں رنگوں کے عوض خون جگر بھرتے ہیں

عشرت رفتہ نے جا کر نہ کیا یاد ہمیں
عشرت رفتہ کو ہم یاد کیا کرتے ہیں

آسماں سے کبھی دیکھی نہ گئی اپنی خوشی
اب یہ حالت ہے کہ ہم ہنستے ہوئے ڈرتے ہیں

شعر کہتے ہو بہت خوب تم اخترؔ لیکن
اچھے شاعر یہ سنا ہے کہ جواں مرتے ہیں