EN हिंदी
صاف باطن دیر سے ہیں منتظر | شیح شیری
saf baatin der se hain muntazir

غزل

صاف باطن دیر سے ہیں منتظر

عزیز لکھنوی

;

صاف باطن دیر سے ہیں منتظر
ساقیا خذ ما صفا دع ما کدر

پھر حیات چند روزہ کا مآل
موت پر جب زندگی ہے منحصر

رت بدلتے ہی فضا میں گونج اٹھا
نغمۂ‌ یا ایہا الساقی ادر

ایسے وادی میں نہیں کیا رہ نما
خود جہاں گم کردہ منزل ہوں خضر

مشورہ رحمت سے کر اے عدل حق
کیا سزا جو ہو خطا کا خود مقر

کیوں ہے اسرار دو عالم کی تلاش
پردۂ دل میں ہیں تیرے مستر

کیوں مری دیوانگی بدنام ہے
ان کی آنکھیں خود ہوئیں جب مشتہر

الحذر پیر فلک کی سرکشی
دیکھنے میں تو ہے اتنا منکسر

کھو چکا آنکھیں مگر اے برق حسن
دل رہے گا اور رہے گا منتظر

سن لے فریاد عزیزؔ جاں بہ لب
رب‌ انی مستغیث فالفقر