EN हिंदी
سائے چمک رہے تھے سیاست کی بات تھی | شیح شیری
sae chamak rahe the siyasat ki baat thi

غزل

سائے چمک رہے تھے سیاست کی بات تھی

حمایت علی شاعرؔ

;

سائے چمک رہے تھے سیاست کی بات تھی
آنکھیں کھلیں تو صبح کے پردے میں رات تھی

میں تو سمجھ رہا تھا کہ مجھ پر ہے مہرباں
دیوار کی یہ چھاؤں تو سورج کے ساتھ تھی

کس درجہ ہولناک ہے یارو شعور ذات
کتنی حسین پہلے یہی کائنات تھی

تیری جفا تو مورد الزام تھی نہ ہے
میری وفا بھی کوشش‌ تکمیل ذات تھی