EN हिंदी
سادگی یوں آزمائی جائے گی | شیح شیری
sadgi yun aazmai jaegi

غزل

سادگی یوں آزمائی جائے گی

مرتضیٰ برلاس

;

سادگی یوں آزمائی جائے گی
نت نئی تہمت لگائی جائے گی

جاگتے گزری ہے ساری زندگی
اب ہمیں لوری سنائی جائے گی

سوچ کا روزن بھی آخر کیوں رہے
روشنی یہ بھی بجھائی جائے گی

سب پرانے گھر گرائے جائیں گے
اک نئی دنیا بسائی جائے گی

دوڑ ہوگی اور وہ بھی شوقیہ
دھول بستی میں اڑائی جائے گی

آسماں کو بھی نہ بخشا جائے گا
چاند پر کالک لگائی جائے گی

یہ جزیرہ تب ہمیں اپنائے گا
جب ہر اک کشتی جلائی جائے گی