سادگی پہچان جس کی خامشی آواز ہے
سوچئے اس آئنہ سے کیوں کوئی ناراض ہے
بے سبب سایوں کو اپنے لمبے قد پہ ناز ہے
خاک میں مل جائیں گے یہ شام کا آغاز ہے
یوں ہوا لہروں پہ کچھ تحریر کرتی ہے مگر
جھوم کر بہتا ہے دریا کا یہی انداز ہے
دیکھ کر شاہیں کو پنجرے میں پتنگا کچھ کہے
جانتا وہ بھی ہے کس میں قوت پرواز ہے
کیوں مغنی کے لیے بے چین ہے تو اس قدر
اے دل ناداں کہ تو تو اک شکستہ ساز ہے
غزل
سادگی پہچان جس کی خامشی آواز ہے
مینک اوستھی

