EN हिंदी
سادگی پہچان جس کی خامشی آواز ہے | شیح شیری
sadgi pahchan jis ki KHamushi aawaz hai

غزل

سادگی پہچان جس کی خامشی آواز ہے

مینک اوستھی

;

سادگی پہچان جس کی خامشی آواز ہے
سوچئے اس آئنہ سے کیوں کوئی ناراض ہے

بے سبب سایوں کو اپنے لمبے قد پہ ناز ہے
خاک میں مل جائیں گے یہ شام کا آغاز ہے

یوں ہوا لہروں پہ کچھ تحریر کرتی ہے مگر
جھوم کر بہتا ہے دریا کا یہی انداز ہے

دیکھ کر شاہیں کو پنجرے میں پتنگا کچھ کہے
جانتا وہ بھی ہے کس میں قوت پرواز ہے

کیوں مغنی کے لیے بے چین ہے تو اس قدر
اے دل ناداں کہ تو تو اک شکستہ ساز ہے