ساعتوں کی نہیں بات لمحوں کی ہے جسم سے روح پرواز کر جائے گی
تم ہماری خبر کو تو کیا آؤ گے اب تمہی کو ہماری خبر جائے گی
جس قیامت سے واعظ ڈراتا ہے تو اس قیامت سے کم یہ قیامت نہیں
بارہا دل پہ گزری ہے جو ہجر میں بارہا جان پر جو گزر جائے گی
میرے چارہ گرو میرے تن پرورو، جاؤ تم کس لیے نیند کھوٹی کرو
ہجر کی رات لا انتہا رات ہے یہ قیامت نہیں جو گزر جائے گی
میرے جینے نہ جینے میں کیا فرق ہے میرا جینا نہ جینا برابر ہے اب
مجھ کو مرنے ہی دو مجھ کو مرنے ہی دو میرے مرنے سے دنیا نہ مر جائے گی
میری دنیا مری زندگی تک ہی ہے اور اک دن میری موت کے ساتھ ہی
خاتمہ میری دنیا کا ہو جائے گا میری دنیا مرے ساتھ مر جائے گی
ڈرنے والوں کو دنیا ڈراتی رہی ڈرنے والوں کو دنیا ڈراتی رہے
تم ڈرو گے نہ دنیا سے لیکن اگر ہار کر تم سے دنیا ہی ڈر جائے گی
الاماں الاماں الحذر الحذر الاماں الحذر تیری نیچی نظر
تیر بن کر جگر میں اتر جائے گی درد کی ٹیس رگ رگ میں بھر جائے گی
لائیں گی رنگ لائیں گی آہیں مری رائیگاں ہی نہ جائیں گی آہیں مری
میری قسمت تو سنورے نہ سنورے مگر زلف تو اس پری کی سنور جائے گی
زندگی کو نہ ہے آرزو کو وفاؔ حسرت آگیں ہے دونوں کا شہر وفا
زندگی آرزو میں گزر جائے گی آرزو دل میں گھٹ گھٹ کے مر جائے گی
غزل
ساعتوں کی نہیں بات لمحوں کی ہے جسم سے روح پرواز کر جائے گی
میلہ رام وفاؔ

