EN हिंदी
روٹھ کر نکلا تو وہ اس سمت آیا بھی نہیں | شیح شیری
ruTh kar nikla to wo is samt aaya bhi nahin

غزل

روٹھ کر نکلا تو وہ اس سمت آیا بھی نہیں

اسلم کولسری

;

روٹھ کر نکلا تو وہ اس سمت آیا بھی نہیں
اور میں نے عادتاً جا کر منایا بھی نہیں

آن بیٹھی ہے منڈیروں پر خزاں کی زرد لو
میں نے کوئی پیڑ آنگن میں اگایا بھی نہیں

پھر سلگتی انگلیاں کس طرح روشن ہو گئیں
اس نے میرا ہاتھ آنکھوں سے لگایا بھی نہیں

اپنی سوچوں کی بلندی اور وسعت کیا کروں
آسماں کا سائباں کیا جس کا سایا بھی نہیں

پھر گلی کوچوں سے مجھ کو خوف کیوں آنے لگا
جگمگاتا شہر ہے اسلمؔ پرایا بھی نہیں