EN हिंदी
روٹھ جائے گا تو مجھ سے اور کیا لے جائے گا | شیح شیری
ruTh jaega to mujhse aur kya le jaega

غزل

روٹھ جائے گا تو مجھ سے اور کیا لے جائے گا

عزیز بانو داراب وفا

;

روٹھ جائے گا تو مجھ سے اور کیا لے جائے گا
بس یہی ہوگا کہ جینے کا مزا لے جائے گا

سردیوں کی دوپہر سے دھوپ لے جائے گا وہ
گرمیوں کی شام سے ٹھنڈی ہوا لے جائے گا

سبز موسم کی طنابیں کھینچ لے گا جسم سے
اور بالوں سے مرے کالی گھٹا لے جائے گا

اپنے اندر زرد پتوں کی طرح بکھروں گی میں
میرے اندر سے مجھے پت جھڑ اڑا لے جائے گا