EN हिंदी
رکنے کا سمے گزر گیا ہے | شیح شیری
rukne ka samay guzar gaya hai

غزل

رکنے کا سمے گزر گیا ہے

پروین شاکر

;

رکنے کا سمے گزر گیا ہے
جانا ترا اب ٹھہر گیا ہے

رخصت کی گھڑی کھڑی ہے سر پر
دل کوئی دو نیم کر گیا ہے

ماتم کی فضا ہے شہر دل میں
مجھ میں کوئی شخص مر گیا ہے

بجھنے کو ہے پھر سے چشم نرگس
پھر خواب صبا بکھر گیا ہے

بس ایک نگاہ کی تھی اس نے
سارا چہرہ نکھر گیا ہے