EN हिंदी
رخسار کے پرتو سے بجلی کی نئی دھج ہے | شیح شیری
ruKHsar ke partaw se bijli ki nai dhaj hai

غزل

رخسار کے پرتو سے بجلی کی نئی دھج ہے

آغا شاعر قزلباش

;

رخسار کے پرتو سے بجلی کی نئی دھج ہے
کیوں آنکھ جھپکتی ہے کیا سامنے سورج ہے

دنیا کی زمینوں سے اے چرخ تو کیا واقف
اک اک یہاں پنہاں کاؤس ہے ایرج ہے

دروازے پہ اس بت کے سو بار ہمیں جانا
اپنا تو یہی کعبہ اپنا تو یہی حج ہے

اے ابروئے جاناں تو اتنا تو بتا ہم کو
کس رخ سے کریں سجدہ قبلے میں ذرا کج ہے

انصاف کرو لوگو انصاف کرو پیارو
شاعرؔ کی زمانے میں دنیا سے نئی دھج ہے