EN हिंदी
روز فراق ہر طرف اک انتشار تھا | شیح شیری
roz-e-firaq har taraf ek intishaar tha

غزل

روز فراق ہر طرف اک انتشار تھا

سیماب اکبرآبادی

;

روز فراق ہر طرف اک انتشار تھا
میں بے قرار تھا تو جہاں بیقرار تھا

نقش طلسم میرا دل داغدار تھا
تھا دن کو پھول رات کو شمع مزار تھا

یادش بخیر یاد ہیں دل کی مصیبتیں
پہلو میں اک ستم زدۂ روزگار تھا

اللہ رے شام غم مرے دل کی شکستگی
تاروں کا ٹوٹنا بھی مجھے ناگوار تھا

وحشت طراز تھی کشش شام بیکسی
مرقد سے اپنے دور چراغ مزار تھا

کیا دیتے ہم کسی کو دعائے سلامتی
اپنی ہی زندگی کا کسے اعتبار تھا

سیمابؔ نالہ کر کے پشیمانیاں فضول
وہ کام کیوں کیا جو انہیں ناگوار تھا