EN हिंदी
ریاست جب بھی ڈہتی ہے نواسے دکھ اٹھاتے ہیں | شیح شیری
riyasat jab bhi Dahti hai nawase dukh uThate hain

غزل

ریاست جب بھی ڈہتی ہے نواسے دکھ اٹھاتے ہیں

پرتاپ سوم ونشی

;

ریاست جب بھی ڈہتی ہے نواسے دکھ اٹھاتے ہیں
کہیں پنچر بناتے ہیں کہیں ٹانگہ چلاتے ہیں

بڑی مشکل سے یہ دو وقت کی روٹی کماتے ہیں
سحر سے شام تک فٹ پاتھ پر قسمت بناتے ہیں

جمورا سر کھجاتا ہے مداری ہاتھ ملتا ہے
تماشا دیکھ کر بد معاش بچے بھاگ جاتے ہیں

کسی کے ساتھ رہنا اور اس سے بچ کے رہ لینا
خدا ہی جانے کیسے لوگ یہ رشتہ نبھاتے ہیں

ہزاروں لوگ ملتے ہیں تو ان میں اک سمجھتا ہے
بڑی مشکل سے ہم بھی دوستی میں سر جھکاتے ہیں