ریاست جب بھی ڈہتی ہے نواسے دکھ اٹھاتے ہیں
کہیں پنچر بناتے ہیں کہیں ٹانگہ چلاتے ہیں
بڑی مشکل سے یہ دو وقت کی روٹی کماتے ہیں
سحر سے شام تک فٹ پاتھ پر قسمت بناتے ہیں
جمورا سر کھجاتا ہے مداری ہاتھ ملتا ہے
تماشا دیکھ کر بد معاش بچے بھاگ جاتے ہیں
کسی کے ساتھ رہنا اور اس سے بچ کے رہ لینا
خدا ہی جانے کیسے لوگ یہ رشتہ نبھاتے ہیں
ہزاروں لوگ ملتے ہیں تو ان میں اک سمجھتا ہے
بڑی مشکل سے ہم بھی دوستی میں سر جھکاتے ہیں
غزل
ریاست جب بھی ڈہتی ہے نواسے دکھ اٹھاتے ہیں
پرتاپ سوم ونشی

