ریت ہے اظہار کے پانی کے پار
اور ویرانی ہے ویرانی کے پار
موت کی تشکیل سے ابھرا ہوا
کون ہے میری فراوانی کے پار
آ نہ پائی مجھ تلک یہ کائنات
رہ گئی سانسوں کی طغیانی کے پار
پھیل کر تجھ میں نہ بس جاؤں کہیں
رنگ مجھ کو رنگ امکانی کے پار
کون پھوٹے گا عدم کی کوکھ سے
کون لافانی ہے لافانی کے پار
چھوڑ اب مفہوم کی اجڑی قبا
کچھ نہیں معنی کی عریانی کے پار
غزل
ریت ہے اظہار کے پانی کے پار
ریاض لطیف

