EN हिंदी
ریت ہے اظہار کے پانی کے پار | شیح شیری
ret hai izhaar ke pani ke par

غزل

ریت ہے اظہار کے پانی کے پار

ریاض لطیف

;

ریت ہے اظہار کے پانی کے پار
اور ویرانی ہے ویرانی کے پار

موت کی تشکیل سے ابھرا ہوا
کون ہے میری فراوانی کے پار

آ نہ پائی مجھ تلک یہ کائنات
رہ گئی سانسوں کی طغیانی کے پار

پھیل کر تجھ میں نہ بس جاؤں کہیں
رنگ مجھ کو رنگ امکانی کے پار

کون پھوٹے گا عدم کی کوکھ سے
کون لافانی ہے لافانی کے پار

چھوڑ اب مفہوم کی اجڑی قبا
کچھ نہیں معنی کی عریانی کے پار