روش حسن مراعات چلی جاتی ہے
ہم سے اور ان سے وہی بات چلی جاتی ہے
اس جفا جو سے بایمائے تمنا اب تک
ہوس لطف و عنایات چلی جاتی ہے
مل ہی جاتے ہیں پشیمانئ غم کے اسباب
شوق حرماں کی مدارات چلی جاتی ہے
ہم سے ہر چند وہ ظاہر میں خفا ہیں لیکن
کوشش پرسش حالات چلی جاتی ہے
دن کو ہم ان سے بگڑتے ہیں وہ شب کو ہم سے
رسم پابندئ اوقات چلی جاتی ہے
اس ستم گر کو ستم گر نہیں کہتے بنتا
سعئ تاویل خیالات چلی جاتی ہے
نگہ یار سے پا لیتے ہیں دل کی باتیں
شہرت کشف و کرامات چلی جاتی ہے
حیرت حسن نے مجبور کیا ہے حسرتؔ
وصل جاناں کی یوں ہی رات چلی جاتی ہے
غزل
روش حسن مراعات چلی جاتی ہے
حسرتؔ موہانی

