EN हिंदी
رونق بیش و کم کس کے ہونے سے ہے | شیح شیری
raunaq-e-besh-o-kam kis ke hone se hai

غزل

رونق بیش و کم کس کے ہونے سے ہے

اطہر نفیس

;

رونق بیش و کم کس کے ہونے سے ہے
موسم خشک و نم کس کے ہونے سے ہے

کس کا چہرا بناتی ہیں یہ ساعتیں
وقت کا زیر و بم کس کے ہونے سے ہے

کون گزرا کہ بنتے گئے راستے
راہ کا پیچ و خم کس کے ہونے سے ہے

کس کی خاطر دریچوں سے آئی ہوا
یہ فضا یوں بہم کس کے ہونے سے ہے

شاخ در شاخ پتوں کی یہ زندگی
آج بھی محترم کس کے ہونے سے ہے

موت برحق ہے کس کے نہ ہونے سے آج
زندگی دم بہ دم کس کے ہونے سے ہے

کس کی زلفوں کا اعجاز ہے بوئے گل
یہ ہواؤں میں نم کس کے ہونے سے ہے

صبح شادابئ جاں کا کیوں ہے ملال
عشرت شام غم کس کے ہونے سے ہے

وحشت دل کو کس نے سنبھالا دیا
یہ جنوں کم سے کم کس کے ہونے سے ہے

کس سے منسوب ہے ہر جفا ہر وفا
یہ ستم یہ کرم کس کے ہونے سے ہے