رستہ کسی وحشی کا ابھی دیکھ رہا ہے
یہ پیڑ جو اس راہ میں صدیوں سے کھڑا ہے
غربت کے اندھیرے میں تری یاد کے جگنو
چمکے ہیں تو راہوں کا سفر اور بڑھا ہے
دنیا سے الگ ہو کے گزرتی ہے جوانی
حالاں کہ یہ ممکن نہیں پرکھوں سے سنا ہے
چاہت جو جنوں کے لیے زنجیر بنی تھی
آج اس کو بھی وحشت نے مری توڑ دیا ہے
یارو نہ ابھی اپنے ٹھکانوں کو سدھارو
کچھ بات کرو رات کٹے سرد ہوا ہے
اک غم کا الاؤ ہے جسے گھیر کے سب لوگ
بیٹھے ہیں کہ راہیؔ نے نیا گیت لکھا ہے

غزل
رستہ کسی وحشی کا ابھی دیکھ رہا ہے
ایم کوٹھیاوی راہی