رسم ہی نیند کی آنکھوں سے اٹھا دی گئی کیا
یا مرے خواب کی تعبیر بتا دی گئی کیا
آسماں آج ستاروں سے بھی خالی کیوں ہے
دولت گریۂ جاں رات لٹا دی گئی کیا
وہ جو دیوار تھی اک عشق و ہوس کے مابین
موسم شوق میں اس بار گرا دی گئی کیا
اب تو اس کھیل میں کچھ اور مزا آنے لگا
جان بھی داؤ پہ اس بار لگا دی گئی کیا
آج دیوانے کے لہجے کی کھنک روشن ہے
اس کی آواز میں آواز ملا دی گئی کیا
آج بیمار کے چہرے پہ بہت رونق ہے
پھر مسیحائی کی افواہ اڑا دی گئی کیا
غزل
رسم ہی نیند کی آنکھوں سے اٹھا دی گئی کیا
منظور ہاشمی

