EN हिंदी
رسم سجدہ بھی اٹھا دی ہم نے | شیح شیری
rasm-e-sajda bhi uTha di humne

غزل

رسم سجدہ بھی اٹھا دی ہم نے

باقی صدیقی

;

رسم سجدہ بھی اٹھا دی ہم نے
عظمت عشق بڑھا دی ہم نے

جب کوئی تازہ شگوفہ پھوٹا
کی گلستاں میں منادی ہم نے

جب چمن میں نہ کہیں چین ملا
باب زنداں پہ صدا دی ہم نے

آنچ صیاد کے گھر تک پہنچی
اتنی شعلوں کو ہوا دی ہم نے

خون دل سے در مے خانہ پر
تیری تصویر بنا دی ہم نے

دل کو آنے لگا بسنے کا خیال
آگ جب گھر کو لگا دی ہم نے