EN हिंदी
رسم گریہ بھی اٹھا دی ہم نے | شیح شیری
rasm-e-girya bhi uTha di humne

غزل

رسم گریہ بھی اٹھا دی ہم نے

شہرت بخاری

;

رسم گریہ بھی اٹھا دی ہم نے
آخری شمع بجھا دی ہم نے

ایک موہوم تصور کے لیے
روح کی آب گنوا دی ہم نے

درمیان دل و گلزار حیات
غم کی دیوار اٹھا دی ہم نے

راکھ بھی پائے نہ کوئی اپنی
اب کے وہ آگ لگا دی ہم نے

سنسناتے رہے تارے پہروں
کیوں تری بات سنا دی ہم نے

ہر کڑی راہ میں ہر منزل پر
تیرے ہی غم کو صدا دی ہم نے

آس کے بجھتے ہوئے شعلے کو
تیرے دامن سے ہوا دی ہم نے

جب تجھے بھولنا چاہا دل نے
اک نئے غم کی سزا دی ہم نے

کوئی غنچہ کسی گوشے میں کھلا
باغ میں دھوم مچا دی ہم نے

کیسی آباد تھی دنیا شہرتؔ
کیسی سنسان بنا دی ہم نے