EN हिंदी
رقیب نفس کا مکھ موڑتا رہ | شیح شیری
raqib-e-nafs ka mukh moDta rah

غزل

رقیب نفس کا مکھ موڑتا رہ

علیم اللہ

;

رقیب نفس کا مکھ موڑتا رہ
ہوا اور حرص کے تئیں توڑتا رہ

اٹھا سنگ ریاضت دست دل سوں
سدا شیشے کو تن کے توڑتا رہ

شجاعت ساتھ لے کر ذکر کا تیغ
سڑک غفلت کے دل پر چھوڑتا رہ

لگایا ہے اگر رشتہ پرت کا
نظر کے سلسلے سوں جوڑتا رہ

علیمؔ اللہ ہووے ایک دم دور
یہ بد خصلت کو یک یک توڑتا رہ