EN हिंदी
رنج و غم سے جو بے خبر ہوتا | شیح شیری
ranj-o-gham se jo be-KHabar hota

غزل

رنج و غم سے جو بے خبر ہوتا

پریم بھنڈاری

;

رنج و غم سے جو بے خبر ہوتا
کاش ایسا بھی کوئی گھر ہوتا

سنگ باری کا غم نہیں ہے مگر
ایک پتھر کو ایک سر ہوتا

اس بلندی سے گر کے رسوا ہوں
اچھا ہوتا زمین پر ہوتا

اس کی لاٹھی ہے بے صدا یارو
کاش اس بات کا بھی ڈر ہوتا

یہ ضلالت نہ جھیلنی پڑتی
با ہنر سے جو بے ہنر ہوتا