EN हिंदी
رنج اتنے ملے زمانے سے | شیح شیری
ranj itne mile zamane se

غزل

رنج اتنے ملے زمانے سے

سیا سچدیو

;

رنج اتنے ملے زمانے سے
لب چٹختے ہیں مسکرانے سے

دھندلی دھندلی سی پڑ گئی یادیں
زخم بھی ہو گئے پرانے سے

مت بناؤ یہ کانچ کے رشتے
ٹوٹ جائیں گے آزمانے سے

تیرگی شب کی کم نہیں ہوگی
گھر کے اندر دیے جلانے سے

عقل نے دل کو کر دیا ہشیار
بچ گئے ہم فریب کھانے سے

ہو ہی جائیں گے ہم رہا اک دن
چھوٹ جائیں گے قیدخانے سے

اے سیاؔ تنگ آ چکی ہوں میں
حوصلہ کی چتا جلانے سے