EN हिंदी
رنگ ہوا میں پھیل رہا ہے | شیح شیری
rang hawa mein phail raha hai

غزل

رنگ ہوا میں پھیل رہا ہے

عبید صدیقی

;

رنگ ہوا میں پھیل رہا ہے
دیکھو کیسا پھول کھلا ہے

میرے اس کے بیچ بدن ہے
اور بدن میں دل دریا ہے

کس کو بتاؤں کیسے بتاؤں
سناٹے میں شور چھپا ہے

اس بستی کے بعد ہے صحرا
اس کے بعد نہ جانے کیا ہے

گھر سے باہر نکلو ذرا
دیکھو کتنی تیز ہوا ہے