EN हिंदी
رنگ صحبت بدلتے جاتے ہیں | شیح شیری
rang-e-sohbat badalte jate hain

غزل

رنگ صحبت بدلتے جاتے ہیں

حاتم علی مہر

;

رنگ صحبت بدلتے جاتے ہیں
ساتھ کے یار چلتے جاتے ہیں

جن کی کرتے ہو تم مسیحائی
وہ مریض اب سنبھلتے جاتے ہیں

دل میں ہونے لگا حضور کا گھر
آپ سانچے میں ڈھلتے جاتے ہیں

زلف الجھتے ہے ان کے بالوں سے
سانپ کا سر کچلتے جاتے ہیں

شائق قتل کوئے قاتل میں
کودتے اور اچھلتے جاتے ہیں

دیکھتے ہیں وہ اپنا جوبن آپ
اب تو کچھ کچھ سنبھلتے جاتے ہیں

ہم تو روتے ادھر سے آتے ہیں
آپ ادھر سے مچلتے جاتے ہیں

مہرؔ سوئے تھے کس کے ساتھ کہ صبح
ٹھنڈے ٹھنڈے بھی جلتے جاتے ہیں