EN हिंदी
رنگ آمیزی سے پیدا کچھ اثر ایسا ہوا | شیح شیری
rang-amezi se paida kuchh asar aisa hua

غزل

رنگ آمیزی سے پیدا کچھ اثر ایسا ہوا

ہیرا لال فلک دہلوی

;

رنگ آمیزی سے پیدا کچھ اثر ایسا ہوا
خود مصور اپنی ہی تصویر کا شیدا ہوا

کیا نگاہوں کی تشفی ہو کہ بزم دہر میں
سامنے آتا ہے ہر منظر مرا دیکھا ہوا

کھول کر آنکھیں ذرا یہ حسن مہر و ماہ دیکھ
دید کے قابل ہے ذرہ چرخ پر پہنچا ہوا

عشق نے اس دل کو دم لینے کی فرصت ہی نہ دی
ایک جب ارمان نکلا دوسرا پیدا ہوا

برق کے شعلوں مناسب ہے مجھی کو پھونک دو
کس کلیجے سے میں دیکھوں آشیاں جلتا ہوا

اک وہی اپنا خدا ہے اک وہی ہے اپنا بت
جس کے در پر سر جھکا دینے سے سر اونچا ہوا

پہنچو گر اک چاند پر سو اور آتے ہیں نظر
آسماں جانے ہے کتنی دور تک پھیلا ہوا

اب فلکؔ ہے اک نئی دنیا کی دل کی جستجو
یہ زمیں دیکھی ہوئی ہے آسماں دیکھا ہوا