رخت سفر کو کھول کر اب ہوں قیام کے قریب
دھوپ کے دشت سے پرے قریۂ شام کے قریب
شاخ سے کھینچ کر مجھے لائی ہے بھوک خاک پر
رزق اٹھاؤں کس طرح رکھا ہے دام کے قریب
پوچھا جو میں نے کون ہے حرمت لفظ کا امیں
اس نے کہا یہ بوجھ ہے تیرے ہی نام کے قریب
یہ دن جو پورا وسط سے ہے مرے گھر کے صحن میں
اس کی سحر ہے در کے پاس شام ہے بام کے قریب
یہ جو ہیں زرد ساعتیں سبزہ ہے ان کی نوک پر
یہ جو سفید چپ سی ہے اب ہے کلام کے قریب
کتنی عمارتیں کھڑی کی ہیں ہوا کو کھود کر
شاہیںؔ یہ کام تو نہیں پھر بھی ہے کام کے قریب
غزل
رخت سفر کو کھول کر اب ہوں قیام کے قریب
جاوید شاہین

