EN हिंदी
رخت سفر ہے اس میں قرینہ بھی چاہیے | شیح شیری
raKHt-e-safar hai isMein qarina bhi chahiye

غزل

رخت سفر ہے اس میں قرینہ بھی چاہیے

فیصل عجمی

;

رخت سفر ہے اس میں قرینہ بھی چاہیے
آنکھیں بھی چاہیے دل بینا بھی چاہیے

ان کی گلی میں ایک مہینہ گزار کر
کہنا کہ اور ایک مہینہ بھی چاہیے

مہکے گا ان کے در پہ کہ زخم دہن ہے یہ
واپس جب آؤ تو اسے سینا بھی چاہیے

رونا تو چاہیے ہے کہ دہلیز ان کی ہے
رونے کا رونے والو قرینہ بھی چاہیے

دولت ملی ہے دل کی تو رکھو سنبھال کر
اس کے لیے دماغ بھی سینہ بھی چاہیے

دل کہہ رہا تھا اور گھڑی تھی قبول کی
مکہ بھی چاہیے ہے مدینہ بھی چاہیے