EN हिंदी
رخت گریز گام سے آگے کی بات ہے | شیح شیری
raKHt-e-gurez gam se aage ki baat hai

غزل

رخت گریز گام سے آگے کی بات ہے

الیاس بابر اعوان

;

رخت گریز گام سے آگے کی بات ہے
دنیا، فقط قیام سے آگے کی بات ہے

تو راستے بچھا نہ چراغوں سے لو تراش
یہ عشق اہتمام سے آگے کی بات ہے

ان پتھروں کے ساتھ کبھی رہ کے دیکھیے
یہ خامشی کلام سے آگے کی بات ہے

میں نے عدو کے خیمے میں بھیجا ہے اک چراغ
یہ عین انتقام سے آگے کی بات ہے

تو آب و گل سے جسم بنا، اسم مت سکھا
بابرؔ یہ تیرے کام سے آگے کی بات ہے