رخت گریز گام سے آگے کی بات ہے
دنیا، فقط قیام سے آگے کی بات ہے
تو راستے بچھا نہ چراغوں سے لو تراش
یہ عشق اہتمام سے آگے کی بات ہے
ان پتھروں کے ساتھ کبھی رہ کے دیکھیے
یہ خامشی کلام سے آگے کی بات ہے
میں نے عدو کے خیمے میں بھیجا ہے اک چراغ
یہ عین انتقام سے آگے کی بات ہے
تو آب و گل سے جسم بنا، اسم مت سکھا
بابرؔ یہ تیرے کام سے آگے کی بات ہے
غزل
رخت گریز گام سے آگے کی بات ہے
الیاس بابر اعوان

