EN हिंदी
رکھے کوئی اس طرح کے لالچی کو کب تلک بہلا | شیح شیری
rakhe koi is tarah ke lalchi ko kab talak bahla

غزل

رکھے کوئی اس طرح کے لالچی کو کب تلک بہلا

آبرو شاہ مبارک

;

رکھے کوئی اس طرح کے لالچی کو کب تلک بہلا
چلی جاتی ہے فرمائش کبھی یہ لا کبھی وہ لا

مجھے ان کہنہ افلاکوں میں رہنا خوش نہیں آتا
بنایا اپنے دل کا ہم نیں اور ہی ایک نو محلا

رہی ہے سر نوا سنمکھ گئی ہے بھول منصوبہ
تری انکھیوں نیں شاید مات کی ہے نرگس شہلا

کیا تھا غیر نیں ہم رنگ ہو کر وصل کا سودا
تمہارا دیکھ مکھ کا آفتاب اس کا تو دل دہلا

کف پا یار کا ہے پھول کی پنکھڑی سے نازک تر
مرا دل نرم تر ہے اس کے ہوتے اس سے مت سہلا

جوابوں میں غزل کے آبروؔ کیوں کہل کرتا ہے
تو اک ادنیٰ توجہ بیچ کہہ لیتا ہے مت کہلا