رہتے ہوئے قریب جدا ہو گئے ہو تم
بندہ نواز جیسے خدا ہو گئے ہو تم
مجبوریوں کو دیکھ کے اہل نیاز کی
شایان اعتبار جفا ہو گئے ہو تم
ہوتا نہیں ہے کوئی کسی کا جہاں رفیق
ان منزلوں میں راہنما ہو گئے ہو تم
تنہا تمہیں ہو جن کی محبت کا آسرا
ان بیکسوں کے دل کی دعا ہو گئے ہو تم
دے کر نوید نغمۂ غم ساز عشق کو
ٹوٹے ہوئے دلوں کی صدا ہو گئے ہو تم
انورؔ گناہ گار و خطاوار ہی سہی
سر تابہ پا عطا ہی عطا ہو گئے ہو تم
غزل
رہتے ہوئے قریب جدا ہو گئے ہو تم
انور صابری