EN हिंदी
رہ وفا میں رہے یہ نشان خاطر بس | شیح شیری
rah-e-wafa mein rahe ye nishan-e-KHatir bas

غزل

رہ وفا میں رہے یہ نشان خاطر بس

شہرام سرمدی

;

رہ وفا میں رہے یہ نشان خاطر بس
بغیر نام ہو مذکور ہر مسافر بس

ہزار وادیٔ تاریک سے گزرتا ہوا
یہ عشق چاہتا ہے ہو ترا معاصر بس

طویل مرحلۂ جستجو بھی تھا درپیش
سو اتفاق نہیں تھا ہوا وہ ظاہر بس

پھر اس کے بعد سبھی ہو گیا ادھر کا ادھر
وہ ایک لمحۂ موجود میں تھا حاضر بس

یہ اک جزیرۂ بے راہ بھی نہیں رہنا
تو کیا قریب ہے وہ مجمع الجزائر بس