رگ رگ ایک تصور ایک امنگ بھرے
اک خوشبو پھولوں میں کیا کیا رنگ بھرے
فن کی اپنی موج دکھوں کی اپنی رو
اک ترکش میں کوئی کتنے خدنگ بھرے
کون لکیروں کو تصویروں میں ڈھالے
کس کا لہو یہ خاکے یہ نیرنگ بھرے
رنگ لباس کو رنگ بدن سے آب ملے
گنگ حروف میں نغموں کا آہنگ بھرے
کس کی آنکھیں تہمت لمس اٹھائیں گی
بجلی کے تن میں ہیں کس کے رنگ بھرے
پولے پولے پاؤں دھرے پروائی بھی
خاک میں اڑتے رنگ یہ کس کے سنگ بھرے
کاہش کا دریا بھی خواہش کا گھر تھا
پانی بھرنے آئے اور نہنگ بھرے
غزل
رگ رگ ایک تصور ایک امنگ بھرے
خالد احمد

