رفتہ رفتہ رنگ بکھرتے جاتے ہیں
تصویروں کے داغ ابھرتے جاتے ہیں
وقت کی سازش گہری ہوتی جاتی ہے
دیواروں کے رنگ اترتے جاتے ہیں
بن کر پھر آسیب بھٹکنے لگتے ہیں
دل کے وہ احساس جو مرتے جاتے ہیں
یادوں میں اک ٹیس بنی ہی رہتی ہے
دھیرے دھیرے زخم تو بھرتے جاتے ہیں
آخر تک انسان اکیلا رہتا ہے
یوں ہی ماہ و سال گزرتے جاتے ہیں
آب و دانہ اور نشیمن کے سپنے
پنچھی کی پرواز کترتے جاتے ہیں
زخموں میں ہر روز اضافہ ہوتا ہے
غزلوں کے مفہوم سنورتے جاتے ہیں

غزل
رفتہ رفتہ رنگ بکھرتے جاتے ہیں
منیش شکلا