رات تاروں سے جب سنورتی ہے
اک نئی زندگی ابھرتی ہے
موج غم سے نہ ہو کوئی مایوس
زندگی ڈوب کر ابھرتی ہے
آج دل میں پھر آرزوئے دید
وقت کا انتظار کرتی ہے
دل جلے یا دیا جلے شوکتؔ
رات افسانہ کہہ گزرتی ہے
غزل
رات تاروں سے جب سنورتی ہے
شوکت پردیسی

