EN हिंदी
رات کیا سوچ رہا تھا میں بھی | شیح شیری
raat kya soch raha tha main bhi

غزل

رات کیا سوچ رہا تھا میں بھی

رسا چغتائی

;

رات کیا سوچ رہا تھا میں بھی
اپنے عالم کا خدا تھا میں بھی

وہ بھی کچھ خود سے الگ تھا جیسے
اپنے سائے سے جدا تھا میں بھی

وہ بھی تھا ایک ورق سادہ کتاب
حرف بے صوت و صدا تھا میں بھی

صورت شاخ ثمر دار تھا وہ
صورت دست صبا تھا میں بھی

وہ بھی اک حلقۂ گرداب میں تھا
اور بس ڈوب چلا تھا میں بھی

پھول کھلنے کا عجب موسم تھا
آئنہ دیکھ رہا تھا میں بھی